Garden-fresh finds · Free shipping over $65 · Browse the beds

خانہ بدوش | Khanh Badosh adds fiction translation لیکن یہ تاثر صحیح نہیں

SKU: 5865069950

4.7
USD190.00 USD234.00

Pay in 4 interest-free payments of $47.50 Learn more

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 23 - Aug 28

Description

لیکن یہ تاثر صحیح نہیں

منور آکاش میں بھی کمال کر دیا ۔ اس کتاب میں ان کی خوب صورت تحریر " محبوب تابش ، جعلی کتابوں کا عہد اور جدید نظم " شامل ہے ۔ اس تحریر میں محبوب تابش کی تصویر نظر آتی ہے ۔ واقعی محبوب تابش ایسا ہی ہے ۔ محبت کرنے والا اور سچ بولنے والا ۔

اور “Enlightenment” کا نام دیا ہے۔اس بات سے ایک چیز تو واضح ہو جاتی ہے کہ یہ نظریہ انسان کی زندگی میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ اور جن کو بھی عرفان نصیب ہوا ہے انہوں نے بھی اس پر انتہائی زور دیا ہے۔ ایک اور بات جو انتہائی قیمتی ہے اور سوچنے سے تعلق رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ اہلِ عرفان کے پاس علم کی جو جھلک نظر آتی ہے ،کسی بھی فلاسفر کے پاس اس علم کا کوئی نشان نظر نہیں آتا ۔ کیونکہ اہلِ عرفان جو بات کرتے ہیں وہ انکا اپنا ذاتی تجربہ ہوتا ہے۔ لیکن فلاسفر محض دماغ میں ٹامک ٹویاں مارتے نظر آتے ہیں۔ دماغ سے ہم صرف وہی سوچ سکتے ہیں جو پہلے سے ہماری یادداشت کا حصہ ہو۔ دماغ اس قابل ہی نہیں ہے کہ وہ انجان اور نامعلوم کے بارے میں سوچ سکے ۔ یہ جتنا بھی نامعلوم علم ہمارے پاس موجود ہے یہ یا تو وحی کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے یا پھر الہام کے ذریعے۔ اور ان دونوں کا دماغ سے کوئی لینا دینا نہیں۔ تو یہاں پر ایک بات تو صاف ہو جاتی ہے کہ اہلِ عرفان کی اپنی ایک الگ دنیا ہے جس تک ایک عام انسان بنا عرفان حاصل کیے نہیں پہنچ سکتا ۔

تعلیم سے فارغ ہو کر عبدالحق تلاش معاش میں حیدرآباد چلے گئے اور ایک اسکول میں مدرس کی ملازمت قبول کر لی۔ آخر ترقی پاکر مدارس کے انسپکٹر مقرر ہوئے۔ اسی زمانے میں انجمن ترقی اردو کے سکریٹری منتخب ہوئے۔ 1917ء میں عثمانیہ یونیورسٹی کے شعبۂ ترجمہ سے مختصر عرصے منسلک رہے۔ آخر اورنگ آباد کالج کے پرنسپل ہوگئے۔ اب انہیں انجمن ترقی اردو کو مستحکم کرنے کا موقع ملا۔ اسی کے ساتھ ہی تصنیف و تالیف کا سلسلہ جاری رہا۔ آخر میں عثمانیہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے صدر ہوگئے۔ ریٹائر ہونے کے بعد دہلی آگئے اور اردو نیز انجمن ترقی اردو کی خدمت میں ہمہ تن مصروف ہوگئے۔ ملک تقسیم ہوگیا تو کراچی چلے گئے۔ اور وہاں بھی اردو کے فروغ کی کوشش میں لگے رہے۔ آخر وہیں 1961ء میں وفات پائی۔ بابائے اردو کی خدمت کے اعتراف میں الہ آباد یونیورسٹی نے 1937ء میں انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی۔

~خلیل جبران،

خانہ بدوش | Khanh Badosh adds fiction translation لیکن یہ تاثر صحیح نہیں( Massacre ) ! ! ( )

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products