Garden-fresh finds · Free shipping over $65 · Browse the beds

پریم چند کے 15 منتخب افسانے Translation/ تراجم سوچا ہے رات کو سونے

SKU: 54237286777

4.0
USD150.00 USD182.00

Pay in 4 interest-free payments of $37.50 Learn more

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 23 - Aug 28

Description

سوچا ہے رات کو سونے سے پہلے "ایک گدھے کی سر گزشت" سے ایک اور اقتباس دوستوں کی نذر کردوں

جس میں ایڈگر ایلن پو، نکولائی گوگول، موپاساں، رابندر ناتھ ٹیگور، فرانز کافکا، ڈی ایچ لارنس، کارل چیپک، خور خے لوئس بورخیس، ویکوم محمد بشیر، نجیب محفوظ، اتالو کلوینو، وجے دان دیتھا، نرمل ورما، جے جی بیلارڈ اور نصیر احمد چیمہ کے شاہکار افسانے اور افسانہ نگاروں کے تعارفیے شامل ہیں۔

مصنف: ایم۔ آر کیانی

تبصرہ کتاب

انسان اس کائنات کا عظیم ترین راز ہے ، لیکن بہت کم انسان ایسے ہوتے ہیں جو کہیں اور جانے کے بجائے اس راز کی کھوج لگاتے ہیں۔ کیونکہ انسان اکیلا اس دنیا میں آیا ہے اور اکیلے ہی اس دنیا سے روانہ ہو جائے گا ۔ اور پھر اسے اپنے وجود سے ہی پالا پڑے گا۔ لیکن اگر وہ اپنے آپ کو جانتا ہی نہیں ہو گا تو وہ اپنی اس نادانی پر آنسو بہائے گا۔ اور باہر انسان جتنا بھی بھٹک لے جتنے بھی جتن کر لے کہیں پر پہنچنا نہیں ہوتا، ایک خالی پن اور ایک بے سکونی مسلسل انسان کو چبھوکے مارتی رہتی ہے۔ اور انسان خود کو نا مکمل محسوس کرتا رہتا ہے۔ لیکن وہ اس کاملیت کو پورا کرنے کے لیے مادی چیزوں کا سہارا لیتا رہتا ہے۔ اور اسے لگتا ہے کہ مادی چیزوں کو اکٹھا کر لینے سے شاید وہ کچھ پور ا ہو جائے گا ۔ لیکن ہر بار اس کا یہ بھر م سراب ثابت ہوتا ہے ۔ سکندر نے بھی اسی دوڑ میں آدھی دنیا فتح کر لی۔ لیکن جب موت آئی تو اسکی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اور ڈاکٹروں سے چند لمحے کی مہلت کی بھیک مانگ رہا تھا تاکہ اپنی ماں سے مل سکے۔ لیکن وہ روتے روتے بھکاری کی موت مر گیا۔ صرف سکندر ہی نہیں دنیا کا ہر انسان سکندر کی طرح بھاگ دوڑ کرتا ہے۔ وہ کاملیت کو حاصل کرنے کے لیے دولت، شہرت اور عزت اکٹھی کرتا رہتا ہے ۔ لیکن اسکا ادھور ا پن ادھورا ہی رہتا ہے۔ اور موت اس کو آ لیتی ہے۔ اور اسکا قصہ تمام کر دیتی ہے۔ انسان کتنا بھولا اور پاگل ہے کہ وہ ایک چھوٹی سی بات نہیں سمجھ پاتا کہ اس کا جسم فانی ہے اور اس کے پاس محدود وقت ہے ۔ وہ صرف جسم نہیں بلکہ روح بھی ہے۔ پھر بھی اسکی تمام دوڑ دھوپ جسم کے آرام کے لیے ہوتی ہے۔لیکن جسم تو جلد یا بدیر مٹی ہونے ہی والا ہے۔ اور وہ روح کی طرف دھیان ہی نہیں دیتا تبھی تو وہ بے چین اور بے قرار رہتا ہے۔ جسے جدید میڈیکل آج ڈپریشن ، انگزائٹی ، اور ہائپر ٹینشن کا نام دیتی ہے۔ وہ بھی دراصل اسی روح سے دوری ، حقیقت سے دوری اور اپنے مرکز سے دوری کا سبب ہے۔لیکن انسان کتنا بھولا ہے کہ وہ پھر بھی اسی جسم کے علاج میں لگا رہتا ہے۔ روگ کوئی اور ہوتا ہے دوا کوئی اور کرتے رہتے ہیں۔ ہماری روح ہماری توجہ کے لیے بلکتی اور تڑپتی رہتی ہے ،اور ہم محض جسم کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں اور اس کے علاج کے لیے اپنی تمام دولت خرچنے پر راضی ہو جاتے ہیں۔سکون ہمارے مرکز اور ہماری روح میں ہے اور ہم محیط میں ہی بھٹکتے بھٹکتے مر جاتے ہیں۔ اگر کوئی ماہرِ نفسیات یا ڈاکٹر اس بات سے اختلاف کرے تو اسے صوفیا کی زندگی کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اسے معلوم ہو گا کہ انکی زندگی دنیاوی چیزوں کے معاملے میں کتنی پر سکون اور آرام دہ ہوتی ہے۔ انکو صرف ایک ہی بے چینی اور فکر ہوتی ہے اور وہ ہے قُربِ الٰہی۔اسکے علاوہ وہ ہردکھ ، درد اور ٹینشن سے آزاد ہوتے ہیں۔

پریم چند کے 15 منتخب افسانے Translation/ تراجم سوچا ہے رات کو سونے15 ( : )

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products